یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
ملک بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلے میں اب تک 100 سے زاید افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔ ادھر مقبوضہ کشمیر سے سیلابی ریلا پاکستان کے 84 دیہات میں داخل ہوگیا ہے۔ جس کے باعث 65 ہزار افراد کا ملک بھر سے زمینی رابطہ کٹ گیا ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ حکومت نے لوگوں کو نکالنے کا کوئی مناسب انتظام تاحال نہیں کیا۔ دوسری طرف بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مسلسل طوفانی بارشوں نے تباہی مچادی ہے۔ کوئٹہ کا ملک سے ریلوے رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔ اس گھمبیر صورت حال کے پیش نظر ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ فعال ہوگئیں۔ پاک آرمی کے 600 جوان امدادی کاموں میں مصروف ہیں، جبکہ سبی میں دریائے ناڑی کے سیلابی پانی سے ضلع بولان کے 5 علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو ہلو، سبی اور بار کھان میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ سیلاب سے سب سے زیادہ نقصان کو ہلو میں ہوا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کوہلو اور سبی اضلاع کے لیے 30 لاکھ روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف ہے۔یہ ان متاثرین کے ساتھ کسی مذاق سے کم نہیں۔ادھر کراچی کے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد موسم خوش گوار ہوگیا۔ نارتھ کراچی، سخی حسن اور لیاقت آباد کے علاقوں میں بارش کے پانی کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
کراچی میں بارش کی ابتدا ہوتے ہی لوگوں کی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہوجاتا ہے۔ شہری انتظامیہ اور کے ای ایس سی کے بلند بانگ دعوﺅں کا پول کھل جاتا ہے۔ اس دفعہ بھی کم و بیش یہی صورت حال پیش آئی۔ کراچی میں بارش کے شروع ہوتے ہی کے ای ایس سی کے 50سے زاید فیڈر ٹرپ کرگئے۔ مختلف علاقوں میں کیبل فالٹ کے باعث بجلی کے تعطل کے باعث شہری بلبلااٹھے۔کراچی کے باسیوں کے ساتھ ہردفعہ یہی ہوتاہے،مگران مسائل کے حل کے لیے پہل کوئی بھی نہیں کررہا۔
بحیثیت قوم یہ پورا منظر نامہ ہمارے لیے افسوس ناک سانحے سے کم نہیں۔ بارش تو خدا کی رحمت ہے، مگر ہمارے ہاں اسے زحمت بنادیا جاتا ہے۔ کیا یہ ہماری بدقسمتی نہیں کہ پورے ملک میں بارشوں اور سیلابی ریلوں میں اسی وطن کے باسی جاں بحق ہورہے ہیں،مگران کاکوئی پرسان حال تک نہیں۔سوال یہ ہے کہ ان بے آسرالوگوں کے لیے ہم کیاکررہے ہیں؟ افسوس تو اس بات پر ہے اس نازک موقع پر بھی ہم میں وہ یکجہتی اور اتحاد نظر نہیں آیا جو کبھی ہمارا خاصہ ہوا کرتا تھا۔ 63 برس گزرنے کے باوجود ہم آج بھی اپنے ملک کو اپنے پاﺅں پر کھڑا نہ کرسکے۔ ہمارے حکمران بھی ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں رہتے اور بلٹ پروف گاڑیوں میں حفاظتی گارڈوں کے جھرمٹ میں سفر کرتے ہیں۔ انہیں کیا معلوم کہ کتنے خاندانوں کے چراغ بجھ گئے؟ کتنے بدقسمت خاندان اپنے کفیل سے محروم ہوگئے۔ کتنے گھروں میں آج فاقے کی نوبت آئی ہوگی۔کتنے بچے باپ کے سائے سے محروم ہوگئے ہونگے۔کتنے ہزارافراداپنے گھر کی ٹوٹی ہوئی چھت سے محروم ہوگئے ہونگے۔ کسی کو ان سے کیا غرض! یہ صورت حال بجا طور پر اس بات کی غماز ہے کہ ہم آج بھی ایک ”قوم“ نہیں بن سکے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم بارانِ رحمت سے لطف اندوز ہوتے۔ لیکن ہم نے ناقص انتظامات کے سبب اپنے لیے اسے زحمت میں بدل دیا ہے۔ بارش کے ساتھ ہی واپڈا اور کے ای ایس سی کے دعوﺅں کی قلعی کھل جاتی ہے۔ بجلی کی آنکھ مچولی کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ سڑکوں پر پانی جمع ہوجاتا ہے۔ جس کے باعث لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں برساتی نالوں کی صفائی بھی بروقت نہیں ہوتی۔ اسی طرح سڑکوں کی تعمیر کے وقت نکاسی آب کا موثر اور خاطر خواہ انتظام نہ ہونے کی وجہ سے سڑکیں تالابوں کا منظر پیش کررہی ہوتی ہیں۔ اسپیڈ بریکروں کی وجہ سے بھی بارشوں کے پانی کی نکاسی میں رکاوٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ بارشوں کا پانی سڑکوں پر جمع ہونے کے باعث گھروں میں داخل ہونا تومعمول بن چکا ہے۔ علاوہ ازیں ایک اور مسئلہ بارشوں کے دوران جس کا احساس پوری شدت کے ساتھ سامنے آجاتا ہے وہ یہ ہے کہ بجلی کی ناقص تنصیبات اور خستہ حال تار لوگوں کی اموات کا سبب بن رہے ہیں۔ اس بارش کے دوران درجنوں افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح تجاوزات نے بھی ایک گھمبیر مسئلے کی شکل اختیار کرلی ہے۔ برساتی ندی نالوں میں تجاوزات ہمیشہ سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے، جس سے ندی نالے سمٹ کر نالیوں کی صورت اختیار کرگئے ہیں اور موسلا دھار بارشیں ہونے کی صورت میں برساتی پانی کی نکاسی نہیں ہوپاتی اور شہر میں سیلابی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے۔ ہر ایک نے سڑک کے کنارے اپنے لیے غیر قانونی جگہ مختص کی ہوئی ہے۔ یہ غیر قانونی عمل ہے۔ اس کی وجہ سے بھی بارشوں کے دوران پانی، کچرا اور کوڑا کرکٹ وغیرہ جمع ہوجاتا ہے۔
الغرض ان سارے مسائل کی ذمہ داری حکومت پر ہی نہیں ہے۔ اور نہ ہی حکومت ان تمام مسائل کو جادوئی چھڑی سے پلک جھپکتے میں حل کرسکتی ہے۔ کہتے ہیں کہ خدا اس قوم کی حالت کبھی نہیں بدلتا جسے اپنی تقدیر بدلنے کی حاجت نہ ہو، سو ہمیںاپنے ملک اور اپنی حالت بدلنے کی فکرتوکرنی چاہیے ۔اس کی ترقی میںاپناحصہ ڈالناچاہیے ۔اپنے گھر کی طرح، ہر شہری اپنے ملک، اپنے شہر کو بھی صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کریں۔ یقین جانیے! اگر ہر شخص ذمہ داری سے کام لیتے ہوئے خود بھی احتیاط کریں اور گندگی پھیلانے سے گریز کریں تو اس سے بھی ہمارے بہت سے مسائل حل ہوجائیں گے۔