بینر
بینر

سب ایڈیٹر کے قلم سے

بینر
بینر

آن لائن

ہمارے ہاں 1 مہمان آن لائن ہیں
بینر
ہم کب جاگیں گے؟عثمان حسن زئی پی ڈی ایف چھاپیے ای میل
یہ ای میل پتہ اسپیم بوٹس سے محفوظ کیا جارہا ہے، اسے دیکھنے کیلیے جاوا اسکرپٹ کا فعّال ہونا ضروری ہے
پاکستان کے قبائلی علاقوں پر امریکی جارحیت اور درندگی کا سلسلہ روز بروز بڑھتا جارہا ہے۔ عسکریت پسندوں کے نام پر قبائل کے معصوم بے گناہ اور نہتے لوگوں کا قتلِ عام جاری ہے۔ لاتعداد مکانات اور بچیوں کے اسکول راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کردیے گئے۔ بستیوں کی بستیاں بھسم ہورہی ہیں۔ فضا آہ و فغاں سے گونج رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے آنگن میں لگائی جانے والی آگ کا ذمہ دار کون ہے؟ اور اس صورت حال سے نکلنے کی راہ کیا ہے؟
آپ گزشتہ دو ہفتوں کے اخبارات اٹھاکر دیکھ لیجیے! اس دوران امریکی ڈرون طیاروں نے ہمارے قبائلی علاقوں کو کئی مرتبہ بے دردی اور سفاکی سے نشانہ بنایا۔ اس عرصے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تقریباً 40 تک جاپہنچی ہے۔ مارے جانے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ رونا تو اس بات کا ہے کہ حکمران تو رہے ایک طرف! ڈیسک بجانے اور بائیکاٹی سیاست کرنے والے اپوزیشن جماعتوں کے رہنماﺅں نے امریکا کی کھلی دہشت گردی اور دراندازی پر مذمت کا ایک لفظ تک نہیں کہا۔ 
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شمولیت اور امریکی اتحادی بننے کا صلہ ہمیں ڈرون حملوں کی صورت میں دیا گیا۔ ایک وقت تھا جب پاکستانی قوم جاسوس طیاروں اور ڈرون کے نام سے ناواقف تھی۔ قبائل کے باسی پہلی بار مشرف دور میں اس وقت واقف ہوئے جب 2004ءمیں امریکا نے پہلا ڈرون حملہ وزیرستان کے صدر مقام وانا میں کیا۔ اس کے بعد ان حملوں کا سلسلہ اور دائرہ کار وقت کے ساتھ ساتھ بڑھنے لگا۔ 2007ءتک بہت کم ڈرون حملے ریکارڈ کیے گئے۔ 2008ءکا آغاز ہوتے ہی ان کارروائیوں میں شدت آگئی، یوں اس سال 44 ڈرون حملے ہوئے۔ 2009ءمیں امریکا نے ڈرون حملوں کا دائرہ کار اورکزئی اور کرم ایجنسی تک بڑھادیا۔ چنانچہ اس سال ڈرون کے 51 حملے ریکارڈ ہوئے۔ 
15 مئی 2010ءکو خیبر ایجنسی کی وادی تیراہ پر پہلا امریکی ڈرون حملہ ہوا، جس میں 13 افراد جاں بحق ہوئے۔ گزشتہ چھ سالوں کے دوران امریکی ڈرون حملوں میں 1400 سے زاید پاکستانی شہریوں کو موت کی نیند سلایا جاچکا ہے۔ صرف اس سال یعنی 2010ءکے پہلے چھ ماہ میں تقریباً 50 ڈرون حملوں میں ساڑھے تین سو کے لگ بھگ افراد کو خاک و خون میں نہلایاجاچکا ہے۔ سو اگر امریکا کی غیر قانونی کارروائیاں اسی تناسب سے جاری رہیں اور ہم یوں ہی خاموشی کا لبادہ اوڑھ کر غفلت کی نیند سوتے رہے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ اس سال پاکستان میں امریکی حملوں کا ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم ہوجائے گا۔ خود امریکی ریڈیو وائس آف امریکا نے اعتراف کیا ہے کہ 2008ءسے اب تک پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سو کے قریب ڈرون حملے ہوچکے ہیں۔ حالانکہ ہم نے جو اعداد و شمار ذکر کیے، اس کے مطابق 2008ءسے اب تک 145 ڈرون حملے کیے جاچکے ہیں۔ امریکا کی اس پالیسی پر نہ صرف پاکستان میں بلکہ اقوامِ متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے بھی تنقید کی جارہی ہے۔ اس پالیسی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ڈرون حملوں کا استعمال لوگوں کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔ چنانچہ یہ بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ میں امریکا سے کہا گیا ہے کہ ”وہ ان علاقوں میں ڈرونز کا استعمال نہ کرے۔ جہاں جنگ کی صورت حال نہیں۔“ یہ انتہائی خطرناک اور مضحکہ خیز صورت حال ہے۔ اگر اب بھی ہماری سیاسی جماعتوں نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والے دنوں میں امریکا کراچی، لاہور، ملتان، فیصل آباد اور کوئٹہ کو بھی اپنی جارحیت کا نشانہ بنانے سے نہیں چوکے گا۔ چنانچہ ہمیں ان حملوں کے آگے بند باندھنے کے لیے واضح لائحہ عمل اور دو ٹوک موقف اپنانا ہوگا۔
آپ ہمارے حکمرانوں کی دوغلی پالیسی کا اندازہ لگائیں! میڈیا میں آنے والی رپورٹوں کے مطابق 18 اپریل 2010ءکو چولستان کے تپتے ہوئے صحرا میں ڈرون جہاز کو گرانے کا کامیاب تجربہ کیا گیا۔ پاکستان کے اپنے تیار کردہ ڈرون جہاز کو فوجی دستوں نے مخصوص لیزر گنوں سے نشانہ بنایا۔ ہمارے وزیر دفاع اور حکومت کے دیگر ذمہ داران یہ کہتے رہے ہیں کہ پاکستان ڈرون گرانے کی ٹیکنالوجی نہیں رکھتا۔ ایٹمی طاقت کے حامل اور دنیا کی مانی ہوئی بہترین سات لاکھ فوج رکھنے والے ملک کے وزیر دفاع کا یہ بیان جو کئی مرتبہ اخبارات کی زینت بنا، انتہائی افسوسناک اور شرمناک تھا۔ 
اب صورت حال یہ ہے کہ ڈرون گرانے کے کامیاب تجربے کے بعد بھی امریکی طیاروں نے بارہا ہمارے علاقوں کو نشانہ بنایا اور صحیح سلامت واپس بھی چلے گئے۔ تو کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں کہ ہمارے حکمرانوں نے خود انہیں اجازت دے رکھی ہے؟ ہماری پارلیمنٹ امریکی حملوں کو روکنے کے لیے ایک متفقہ قرار داد منظور کرتی ہے، مگر امریکا عوامی نمایندوں کی قرار داد پر کان نہیں دھرتا اور اپنی ہٹ دھرمی بدستور جاری رکھتا ہے۔
ہماری حکومت نے آج تک پارلیمنٹ کی متفقہ قرار داد سے ملنے والے مینڈیٹ کو استعمال کیوں نہیں کیا۔ حکومت کا پُر اسرار رویہ اس امر کی غمازی کررہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ اگر حکومت نے امریکا کو مبینہ طور پر ان حملوں کی پیشگی اجازت نہیں دے رکھی تو سوال یہ ہے کہ پھر وہ ڈرون حملوں کے ایشو پر مُہر بہ لب کیوں ہے۔ ڈرون گرانے کی صلاحیت کے باوجود امریکی طیارے کیسے واپس چلے جاتے ہیں؟ کیا حکومت اور کیا اپوزیشن! غضب تو یہ ہے کہ قوم کی فکری رہنمائی کرنے والوں کی اکثریت نے ان حملوں پر چپ سادھ رکھی ہے۔ کیا قبائل کے باسی اور امریکی درندگی کا نشانہ بننے والے بے گناہ پاکستانی نہیں؟ آپ میڈیا کا دہرا رویہ بھی ملاحظہ فرمائیں! ایک جعلی ویڈیو جس میں طالبان کو صنفِ نازک پر کوڑے برساتے دکھایا جاتا ہے۔ عالمی ذرائع ابلاغ سمیت پاکستانی میڈیا اس نام نہاد واقعہ پر آناً فاناً آسمان سر پر اٹھاکر وہ فساد مچاتا ہے کہ خدا کی پناہ! دوسری طرف یہی میڈیا امریکی درندگی اور ظلم کا شکار ہونے والوں کی دو کالمی خبر لگاکر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتا ہے۔ آپ ہماری ناکام اور بوگس خارجہ پالیسی کا اندازہ اس سے لگائیں! پاکستانی نژاد امریکی شہری فیصل شہزاد کو جعلی ڈرامہ رچاکر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا جاتا ہے۔ اس کے انفرادی عمل کا ملبہ پاکستان کے سر ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سارے پاکستانیوں کو موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ ہمارے حکمران دفاعی پوزیشنیں سنبھال کر وضاحتیں پیش کرنے لگ جاتے ہیں۔ مغربی میڈیا اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور پاکستان کے خلاف وہ ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ الامان و الحفیظ! دوسرا رخ تو دیکھیے! پاکستان کے علاقے چترال سے اسامہ بن لادن کو قتل کرنے کے ارادے اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزام میں امریکی شہری گیری فالکنز کو حراست میں لیا جاتا ہے۔ ہمارا میڈیا اس واقعہ کو کوریج دینے اور اسے ہائی لائٹ کرنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتا۔ مغربی میڈیا گیری فالکنز کے عمل کو اس کا انفرادی عمل ثابت کرنے پر سارا زور صرف کردیتا ہے۔ ہمارے حکمراں بھی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ یوں وہ دس دنوں کے اندر پورے اعزاز و اکرام کے ساتھ بغیر کسی مقدمے کے رہا کردیا جاتا ہے۔ آپ غور تو کریں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکی کروسیڈ کا ساتھ دینے سے ہمیں کیا ملا؟ ہم داخلی اور خارجی سطح پر عدم استحکام کا شکار ہوئے۔ پاکستان کے لاکھوں باشندں کو اپنا گھر بار اور وطن چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا۔ غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ نکال کر باہر کا رخ کیا۔ ہماری سیاحت کو لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ ہماری معیشت مفلوج ہوگئی۔ صرف ایک سال میں اہل وطن کو ساڑھے گیارہ ہزار جنازوں کو کندھا دینا پڑا۔ 20 ہزار سے زیادہ لوگ زخمی ہوئے۔ ایک سال میں پاکستان میں 500 بم دھماکے ہوئے۔ آپ اس جنگ میں پاکستان اور اتحادی افواج کی قربانیوں کا موازنہ بھی کریں! فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کی گئی رپورٹ ملاحظہ فرمائیں! نائن الیون کے بعد سے اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تنہا پاک فوج کی قربانیاں افغانستان میں موجود 42 اتحادی ممالک کی افواج سے زیادہ ہیں۔ نائن الیون سے اب تک 30457 افراد دہشت گردی کے خاتمے کی جنگ میں شہید یا زخمی ہوئے، جس میں 21672 سویلین اور 8785 فوجی افسران و جوان شامل ہیں۔ جنہوں نے جام شہادت نوش کیا یا زخمی ہوئے۔ صرف 2009ءمیں 10 ہزار افراد جاں بحق ہوئے۔ پاک فوج کے 78 افسران نے بھی ان قربانیوں میں اپنا حصہ ڈالا۔ جبکہ مجموعی طور پر 2273 فوجی جوان شہید اور 6512 گزشتہ تین سال کے دوران زخمی ہوئے۔ 2009ءسے اب تک تقریباً 10 سیکورٹی فورسز کے اہلکار روزانہ شہید ہورہے ہیں۔ دوسری طرف نیٹو اور افغانستان میں موجود امریکا سمیت 42 ممالک کی افواج کی صرف 1582 ہلاکتیں ہوئیں جو کہ پاک فوج سے بہت کم ہیں۔ اسی عرصے کے دوران 17742 دہشت گرد مارے گئے یا پکڑے گئے۔ اس کے باوجود ہماری لازوال قربانیوں کو تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اور ہمیں شک بھری نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔
آپ ہمارے صدر کی اپنی قوم کے ساتھ اخلاص کی انتہا تو دیکھیے! وہ امریکی فضائیہ کے سربراہ جنرل شوارٹز سے ملاقات کرتے ہیں۔ صدر صاحب امریکی حکومت کی طرف سے ایف 16 طیاروں کی فراہمی پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ طیارے ہمیں خیرات میں نہیں دیے گئے، بلکہ 20 سال قبل ان کی قیمت ادا کی گئی تھی۔ صدر مکرم امریکا سے ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کرنے کا مطالبہ بھی دہراتے ہیں، مگر ڈرون حملوں کے خلاف ایک لفظ تک کہنا گوارا نہیں کرتے۔ یوں معلوم ہوتا ہے حکمران سمیت ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو پاکستانی سر زمین پر ہونے والے حملوں کی فکر ہی نہیں ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ جدید ترین ایف 16 طیاروں پر اتنا پیسہ خرچ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور ان کا مصرف کیا ہے؟ آپ حکمرانوں کی پنے شہریوں کے جان و مال کو تحفظ دینے سے غفلت برتنے کی انتہا تو دیکھیے! گزشتہ دنوں لاہور ہائیکورٹ نے حکم دیا اگر قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے حکومت کی مشاورت کے بغیر کیے جارہے ہیں تو انہیں روکنے کے لیے اقدام کیے جائیں۔ عمران خان نے بھی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے کہ امریکی حملوں کو روکنے کا حکم جاری کیا جائے۔ اس کا فیصلہ تو آنے والے دنوں میں ہوگا۔ فی الوقت سوال یہ ہے کہ آیا شہریوں کے جان و مال کا تحفظ بھی اب عدالتیں کریں گی؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں پر پے درپے امریکی ڈرون حملوں نے حکمرانوں کے بہت سے دعوے طشت ازبام کردیے ہیں۔ بہت سے راز آشکارا ہوگئے ہیں۔ ہماری بے چارگی اور بے بسی کا بھانڈا بیچ چوراہے کے پھوٹ گیا ہے۔ امریکی حملوں سے پاکستان کی سلامتی، بقا، آزادی، خودمختاری اور حاکمیت اعلیٰ پر سوالیہ نشان لگ چکا ہے اور اگر ہم نے اب بھی آنکھیں نہ کھولیں تو سب کچھ خاکستر ہوجائے گا۔ سب کچھ....

 
 
بینر
بینر
بینر
بینر
بینر